3099 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أَقْسِمَ جِلَالَهَا وَجُلُودَهَا، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا، وَقَالَ: «نَحْنُ نُعْطِيهِ»
حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ آپ کے اونٹوں (کو ذبح وغٰرہ کرنے) کا بندوبست کروں، اور ان کی جھولیں اور کھالیں تقسیم کر دوں، اور قصاب کو ان میں سے کچھ نہ دوں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: اس (قصاب) کو ہم (اپنے پاس سے) دیتے ہیں۔
1۔جانوروں کوسردی وغیرہ سے بچانے کے لیے ان پر جھول ڈالنی درست ہے۔
2۔قربانی کے جانوروں کی کھالیں اور جھولیں صدقہ کردینی چاہیئں۔
3۔قربانی کے جانور کا گوشت قصاب کو اجرت کے طور پر دینا جائز نہیں۔
4۔قربانی کا جانور قصاب سے اجرت دے کر ذبح کروانا جائز ہےجبکہ خود اپنے ہاتھ سےذبح کرنا افضل ہے۔