فهرس الكتاب

الصفحة 2441 من 4341

کتاب: رہن( گروی رکھی ہوئی چیز)سے متعلق احکام ومسائل

باب: رہن رکھی ہوئی چیز قرض خواہ کی ملکیت نہیں بن سکتی

2441 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَغْلَقُ الرَّهْنُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رہن رکھی ہوئی شے (مستقل طور پر) قرض خواہ کے پاس نہیں رہے گی۔

زمانہ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ اگر مقروض مقررہ وقت پرقرض ادانہ کرتاتورہن رکھی ہوئی چیز قرض خواہ کی ملکیت بن جاتی تھی اوربعدمیں وہ قرض اداکرنے کےباوجود اس چیز کوحاصل نہیں کرسکتا تھا حالانکہ مقررہ وقت کےبعد بھی قرض اداکردیا گیا تورہن رکھی گئی چیز کوواپس نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت