فهرس الكتاب

الصفحة 603 من 4341

کتاب: تیمم کے احکام ومسائل

باب: عورتوں کے غسل جنابت کا بیان

603 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ فَقَالَ إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ مِنْ الْمَاءِ فَتَطْهُرِينَ أَوْ قَالَ فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ

سیدہ ام سلمہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا، کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سر کے بالوں کی مینڈھیاں مضبوطی سے بناتی ہوں ،تو کیا غسل جنابت کے لئے انہیں کھولا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:''تجھے یہی کافی ہے کہ سر پر پانی کی تین لپیں ڈال لے، پھر اپنے ( پورے جسم) پر پانی بہالے، تو پاک ہو جائے گی۔ '' یا فرمایا:'' بس تو پاک ہوگئی۔''

: جس طرح مرد کے لیے ضروری ہے کہ سر کی جلد کو بھی باقی جسم کی طرح تر کرے''عورت کے لیے بھی غسل جنابت میں یہ تاکید ہے''البتہ بالوں کی مینڈھیاں اچھی طرح بنی ہوئی ہوں تو انھیں نہ کھولےکیونکہ اس میں مشقت ہےلیکن اگر اس کے بال ڈھیلے ڈھالے گوندھے ہوئے ہوں یا کھلے ہوئے ہوں تو بالوں کو خوب دھونا چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت