فهرس الكتاب

الصفحة 604 من 4341

کتاب: تیمم کے احکام ومسائل

باب: عورتوں کے غسل جنابت کا بیان

604 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ نِسَاءَهُ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ فَقَالَتْ يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو هَذَا أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ لَقَدْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فَلَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ

جناب عبید بن عمیر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدہ عائشہ ؓا کو معلوم ہوا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ اپنی خواتین کو حکم دیتے ہیں کہ جب وہ غسل کریں تو سر ( کی مینڈھیاں وغیرہ) کھول لیا کریں۔ ام المومنین نے فرمایا: عبداللہ بن عمرو پر تعجب ہے! ( کہ وہ عورتوں کو غسل کے لئے بال کھولنے کا حکم دیتے ہیں) وہ انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیتے کہ اپنے سرمنڈوایا کریں۔ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے، میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے، میں تو اس سے زیادہ نہیں کرتی تھی کہ سر پر تین بار پانی ڈال لیتی تھی۔ ( نبی ﷺ مجھے بال کھولنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت