فهرس الكتاب
3008 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ فَمِنَّا مَنْ يُكَبِّرُ وَمِنَّا مَنْ يُهِلُّ فَلَمْ يَعِبْ هَذَا عَلَى هَذَا وَلَا هَذَا عَلَى هَذَا وَرُبَّمَا قَالَ هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ وَلَا هَؤُلَاءِ عَلَى هَؤُلَاءِ
حضرت انس ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ اس دن (9ذوالحجہ کو) منیٰ سے عرفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ہم میں سے کوئی تکبیرات پکار رہا تھا اور کوئی لبیک پکار رہا تھا۔نہ اس پر تنقید کرتا تھا نہ وہ اس پر۔یا یہ فرمایا:نہ یہ ان پر تنقید کرتے تھے نہ وہ ان پر۔
1۔منی سے عرفات جاتے وقت لبیک پکارنا بھی جائز ہے اور تکبیرات کہنا بھی۔
2۔یہ بھی درست ہے کہ آدمی کچھ دیر لبیک پڑھے اور کچھ دیر تکبیرات کہے۔