فهرس الكتاب

الصفحة 3726 من 4341

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل

باب: علم نجوم سیکھنا

3726 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنْ النُّجُومِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنْ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سےروایت ہے ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ستاروں کا تھوڑا سا علم سیکھا اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھ لیا ۔ جتنا زیادہ (علم نجوم) سیکھے گا اتنا زیادہ (جادو سیکھنے والا شمار) ہوگا۔

۱ ۔ علم نجوم سے مراد ستاروں کا ایسا علم ہے جس سے لوگ اپنے خیال میں قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں یہ ممنوع ہے۔۲۔ بعض لوگ یہ تصور رکھتے ہیں کہ بارہ برجوں میں سے فلاں برج کے ایام میں پیدا ہونے والا بچہ فلاں فلاں خصوصیات کا حامل ہوتا، اور فلاں برج والا فلاں فلاں خوبیوں سے متصف ہوتا ہے۔ یہ بھی جاہلی تہمات ہیں جن کو بعض لوگ "علم" کا نام دیتے ہیں۔۳۔ ہاتھ کی لکیروں سے قسمت کا حال بتانے والے بھی ہاتھ کے مختلف حصوں کو مختلف ستاروںکی طرف منسوب کرتے اور اس بنیاد پر پیشگوئیاں کرتے ہیں ۔ یہ بھی غلط ہے۔ ان سب سے اجتناب کرنا چاہیے۔۴۔ ستاروں کے طلوع وغروب سے وقت کا اندارہ لگانا یا چاند کی رفتار سے مہینے کے انتیس یا تیس دن کے ہونے کا اندازہ کرنا اور سفر کے دوران میں ستاروں سے سمت کا تعین کرنا ممنوع علم نجوم میں شامل نہیں۔۶۔ستاروں کے قسمت پر اثر انداز ہونے کے تصور کو "جادو" قرار دیا گیا ہے، یعنی یہ بھی جادو کی طرح حرام ہے اور ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت