فهرس الكتاب

الصفحة 2755 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب: اللہ کی راہ میں ایک صبح یا شام گزارنے کی فضیلت

2755 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں (گزرنے والی) ایک صبح یا ایک شام دنیا و فیہا سے بہتر ہے۔

1۔ اللہ کی راہ میں اگرچہ اس سے خلوص سے کی جانے والی ہر نیکی مراد لی جاسکتی ہے تاہم قرآن وحدیث میں یہ لفظ زیادہ تر جہاد کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

(دنيا ومافيها) سے مراد دنیا میں موجود تمام دولت اور تمام خزانے ہیں،یعنی جس طرح ایک دنیا کے طالب کے لیےیہ سب کچھ انتہائی محبوب اور قیمتی ہے۔اللہ کی نظر میں جہاد اس سے بھی بڑھ کر محبوب اور قیمتی ہے۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہر مومن کی نظر میں جہاد دنیا کے تمام خزانوں سے قیمتی ہے یعنی دنیا کی دولت ختم ہونے والی ہے جب کہ جہاد کا ثواب جنت کی نعمتیں ہیں جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ دنیا بھر کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جتنا ثواب ہوسکتا ہے جہاد میں گزرا ہوا تھوڑا سا وقت اس سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔جو مطلب بھی مراد لیا جائے حدیث کا اصل مقصود جہاد کی فضیلت اور بے حساب ثواب کا اثبات ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت