فهرس الكتاب

الصفحة 406 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: ناک میں اچھی طرح پانی ڈالنا اوراسے خوب صاف کرنا

406 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَنْصُورٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْثُرْ وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ

سیدہ سلمہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تو وضو کرے تو ناک صاف کیا کر اور جب (قضائے حاجت کے بعد) ڈھیلے استعمال کرے تو طاق تعداد میں استعمال کر۔''

1)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف ناک میں پانی ڈال لینا ہی کافی نہیں بلکہ ضرورت ہوتوناک کو اچھی طرح صآف کرنا چاہیے۔

2۔استنجاء کے لیے تین ڈھیلے استعمال کرنا ضروری ہیں۔اگر تین سے زیادہ ڈھیلے استعمال کرنے کی ضرورت ہوتو کرسکتا ہے تاہم ان کی تعداد طاق ہونی چاہیے۔واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت