فهرس الكتاب

الصفحة 4282 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: امت محمد ﷺ کی صفا ت

4282 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ الْوُضُوءِ سِيمَاءُ أُمَّتِي لَيْسَ لِأَحَدٍ غَيْرِهَا

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تم میرے پاس (حوض پر) آئو گے۔تو وضو کی وجہ سے تمہارے چہرے اور ہاتھ پائوں چمکتے ہوں گے۔ یہ میری امت کی علامت ہے۔جو کسی اور امت کو حاصل نہیں

1۔نمازسب سے بڑا نیک عمل ہے۔ حتیٰ کہ اس کی تیاری کے لئے کیا جانے والا وضو بھی بہت ثواب اور آخرت میں عزت وشرف کاباعث ہے۔2۔ وضو احتیاط سے اچھی طرح کرنا چاہیے تاہم بہت زیادہ پانی خرچ کرنا یا پانی ضائع کرنا گناہ ہے۔3۔وضو کے اعضاء کا چمکنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کی علامت ہے۔بے نماز وضو نہیں کرتے۔اس لئے انھیں یہ علامت حاصل نہیں ہوگی۔چنانچہ وہ قیامت کے دن حضرت محمد ﷺ کی امت س میں سے ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت