فهرس الكتاب

الصفحة 2098 من 4341

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل

باب: اسلام کے علاوہ دوسرے مذہب( میں چلے جانے )کی قسم کھانا

2098 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ»

حضرت ثابت بن ضحاک ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اسلام کے علاوہ دوسرے مذہب (میں چلے جانے) کی جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی تو وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے کہا۔

1۔ دوسرے مذہب کی قسم کا مطلب یہ ہے کہ اس نے کہا: '' اگر میں نے فلاں کام کیا ہو تو میں یہودی ہوں'' یا کہا: '' اگر میں جھوٹ کہوں تو کافر ہو جاؤں ۔'' اس انداز کی قسم سے پرہیز کرنا چاہیے ۔

2۔ حافظ صلاح الدین یوسف حفظ اللہ اس کی بابت یوں لکھتے ہیں کہ اگر قسم کھاتے وقت اس کا ارادہ بھی یہی تھا کہ اگر اس نے یہ کام کیا تو وہ کفر کا راستہ اختیار کر لے گا تو وہ فی الفور کافر ہو جائے گا اور اگر اس کا مقصد دین اسلام پر استقامت کا اظہار تھا اور اس کا عزم تھا کہ وہ کبھی کفر کا راستہ اختیار نہیں کرے گا تو وہ کافر تو نہیں ہو گا لیکن اس کے لیے اس نے جو طریقہ اختیار کیا ، وہ غلط تھا اس لیے اسے توبہ و استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے بلکہ بہتر ہے کہ دوبارہ کلمہ شہادت پڑھ کر تجدید اسلام کر لے ۔ دیکھیے: ( ریاض الصالحین( اردو ) جلد دوم ، حدیث: 1710 کے فوائد مطبوعہ دارالسلام)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت