فهرس الكتاب

الصفحة 3695 من 4341

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل

باب: سلام کا جواب دینا

3695 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ فَقَالَ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے ، ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں ایک طرف تشریف فرماتھے ۔اس نے نماز پڑھی ،پھر آکر سلام کیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: [وَعَلَیۡکَ السَّلاَمُ] تجھ پر بھی سلامتی ہو۔

۱۔ اگر مسجد میں چند افراد مل کر بیٹھے ہوئے ہوں تو ان کے پاس آنے والا انہیں سلام کرے۔

۲سلام کا جواب ضرور دینا چاہیے ۔

۳۔ [عليك] ایک آدمی کے لیے اور [عليكم] زیادہ زیادہ افراد کے لیے ہوتا ہے لیکن ایک آدمی کو بھی [عليكم] کہنا درست ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت