فهرس الكتاب

الصفحة 2976 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: عمرے کے بعد حج تک احرام کھول دینا

2976 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ يَعْنِي دُحَيْمًا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَقَالَ صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ وَاللَّفْظُ لِدُحَيْمٍ

حضرت عمر بن خطا ب ؓسے روایت ہے کے انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ مقا م عقیق پر یہ فرماتے سنا: میرے پاس مرے رب کی طرف سے ایک آنے والا ےآیا اور اس نے کہا: اس مبا رک وادی میں نماز ادا کیجیے اور کہیے: عمر ہ حج میں داخل ہے ۔

اس روایت کے الفاظ امام ابن ماجہ کے استاذ رحیم (عبدالرحمن بن ابراہیم دمشقی ) کے ہیں

1۔آنے والے سے مراد فرشتہ ہے جس نے آکر بتایا کہ حج کے ساتھ عمرے کی نیت بھی کر لیجیے۔

2۔حج میں عمرہ داخل ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کرنا جائز ہے۔جب کہ اہل عرب اس کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔دوسرا مطلب یہ ہے کہ حج قران میں حج اور عمرے کے لیے ایک ہی احرام ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کافی ہے۔ یعنی حج قران میں حج اور عمرے کے لیے ایک ہی احرام ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کافی ہے یعنی حج کے اعمال ادا کرنے سے عمرے کے اعمال خود بخود ادا شدہ سمجھے جائیں گے۔واللہ اعلم۔

3۔وادی عتیق مدینہ کے قریب چار میل کے فاصلے پر واقع ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت