فهرس الكتاب

الصفحة 2465 من 4341

کتاب: رہن( گروی رکھی ہوئی چیز)سے متعلق احکام ومسائل

باب: زمین غلے کے عوض کرائے پر دینا

2465 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَعَمَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُمْ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلَا يُكْرِيهَا بِطَعَامٍ مُسَمَّى

حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں محاقلہ کرتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ان کے ایک چچا (حضرت ظہیر بن رافع ؓ) نے آ کر انہیں کہا: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: جس کے پاس زمین ہو تو وہ اسے غلے کی مقرر مقدار کے عوض کرائے پر نہ دے۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب تہائی چوتھائی یا غلے کی مقرر مقدار کےعوض زمین کرائے پردینے کی صرف ایک ہی صورت مروج تھی جس میں پانی کی نالیوں کےکنارے اورآبی گزر گاہوں وغیرہ کےقریب واقع زمین کےٹکڑے کی پیداوار مالک کےلیے مختص تھی۔ حدیث میں مذکور اسی صورت کوممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ واللہ اعلم ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت