فهرس الكتاب

الصفحة 4202 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: دکھلاوے اورشہرت کابیان

4202 حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنْ الشِّرْكِ فَمَنْ عَمِلَ لِي عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فر یا اللہ عزوجل فر تا ہے میں دوسر ے شر یکو ں کے مق بلے میں شرا کت سے سب سے زیا دہ بے نیا ز ہو ں ۔جس نے (بظا ہر ) میرے لئے عمل کیا اس میں میرے سوا کسی اور کو بھی شر یک کر لیا تا میں اس سے لا تعلق ہو جا تا ہوں اور وہ (عمل) اسی کے لئے ہو تا ہے جس کو اس نے (میرا ) شریک بنایا

1۔ کسی اور کو شریک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دکھاوے کے لیے کام کیا جائے جس کے ذریعے سے اسے دنیوی مفاد حاصل ہو یا لوگوں کی نظر میں متقی اور پارسا کہلائے۔

2۔ایسا عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔

3۔وہ عمل دوسرے کے لیے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی اس کا کوئی ثواب نہیں دیتا۔اگر ریا کار ثواب کا طالب ہے تو اسی انسان سے ثواب لے جس کو دکھانے کے لیے اس نے کام کیا ہے۔ظاہر ہے انسان دوسرے انسان کو نیکی کا بدلہ نہیں دے سکتا اس لیے قیامت کے دن ریا کار کو شرمندگی ہوگی۔ اور اسے عمل کا کوئی ژواب یا فائدہ نہیں ملے گا۔

4۔ریاکاری شرک اصغر ہے،اس سے وہ عمل تباہ ہوجاتا ہے جس میں ریا شامل ہو تاہم یہ شرک اکبر نہیں جس کی سزا دائمی جہنم ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت