فهرس الكتاب

الصفحة 1223 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: بیمار آدمی کی نماز

1223 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ كَانَ بِيَ النَّاصُورُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ

سیدنا عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے پھوڑا نکلا ہوا تھا۔ میں نے نبی ﷺ سے نماز کے متعلق سوال کیا ( کہ کیسے نماز پڑھوں؟) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''کھڑا ہو کر نماز پڑھ، اگر ( کھڑا ہونے کی ) طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل (لیٹ کر نماز پڑھ لے۔'')

1۔اسلام دین فطرت ہے۔اس میں بندوں کی فطری کمزوریوں کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔2۔بلاعذر بیٹھ کرنماز پڑھنا مناسب نہیں۔ فرض ہو یا نفل کیونکہ ارشاد نبوی ﷺ ہے۔صلاة الرجل قاعدا علي نصف الصلاة (صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب جواز النافلۃ قائما وقاعدا ۔۔۔حدیث 735) آدمی کا بیٹھ کر نماز پڑھنا آدھی نماز کے برابر ہوتاہے 3۔شدید مرض کی صورت میں جب آسانی سے بیٹھنا ممکن نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔4۔اس سے نماز کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔کہ شدید مرض کی حالت میں بھی نماز معاف نہیں صرف اس کے احکام ومسائل میں نرمی کردی گئی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت