فهرس الكتاب

الصفحة 360 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: برتن ڈھانک کر رکھنا

360 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُوكِيَ أَسْقِيَتَنَا وَنُغَطِّيَ آنِيَتَنَا

سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کریں اور برتنوں کو ڈھانک دیا کریں۔

1)۔اسلام نے اپنی تعلیمات میں حفظان صحت کے اصولوں کو بھی مدنظر رکھا ہے۔اس کی ایک مثال یہ حدیث مبارک ہے جس میں کھانے پینے کی چیزوں کو نقصان دہ اشیاء سے محفوظ رکھنے لے لیے ڈھانک کر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

2۔پانی میں مضر صحت اشیاء گرد وغبار وغیرہ بہت جلد مل جاتی ہیں۔جب پانی کی مقدار کم ہو جیسے کہ گھر کے برتنوں میں ہوتی ہے تو تھوڑی سی آلودگی بھی پانی کو ناقابل استعمال بناسکتی ہے۔پانی کے مشکیزے کا منہ باندھ کر رکھنے میں یہ حکمت ہے کہ اس طرح پانی آلودگی سے محفوظ ہوجاتا ہے اور اس کے خراب ہونے کا اندیشہ نہیں رہتا۔

3۔برتن خواہ پانی کے ہوں یا کھانے کےان پر ڈھکن وغیرہ ضرور رکھنا چاہیےتاکہ ان میں گردوغبار اور کیڑے مکوڑے داخل نہ ہوسکیں کیونکہ بعض حشرات خطرناک بھی ہوسکتے ہیں۔خاص طور پر رات کے وقت چھوٹے موٹے حشرات اپنے بلوں سے باہر نکلتے ہیں وہ کھانے پینے کہ چیزوں میں داخل ہوسکتے ہیں،اس لیے رات کو برتن ڈھانکنے کا خاص طور پر حکم دیا گیا ہے۔دیکھیے: (صحيح البخاري الاشربة باب تغطيه الاناء حديث:5623)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت