فهرس الكتاب

الصفحة 3466 من 4341

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل

باب: علم طب نہ جاننے کے باوجود علاج کرنے والا

3466 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَطَبَّبَ، وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ، فَهُوَ ضَامِنٌ»

حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص علاج کرے ، حالانکہ اس سے پہلے وہ طبیب کےطور پر معروف نہیں تو وہ ذمہ دار ہے۔''

1۔مذکورہ روایت کوہمارے فاضل محقق نے سنداضعیف قراردیاہے۔جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگرشواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں۔ کہ مذکورہ ر وایت مجموعی طرق سے حسن بن جاتی ہے۔مذید تفصیل کے لئے دیکھئے۔ (سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ رقم 635) 2۔طب کا پیشہ ایک اہم پیشہ ہے۔چونکہ اس کاتعلق لوگوں کی زندگی اور صحت سے ہے۔اس لئے اسے باقاعدہ سیکھنے کے بعد علاج کرنا شروع کرناچاہیے۔3۔اناڑی حکیم کو لوگوں کی صحت سے کھیلنے سے روکنا حکومت کی زمہ داری ہے۔4۔اناڑی ڈاکٹر یاطبیب کے غلط علاج کے نتیجے میں اگر کسی کو نقصان پہنچ جائےتو اسے اس کاتاوان اداکرنا پڑے گا۔ اگر مریض ہلاک ہوجائے تو طبیب قتل خطا کا مجرم قرار دیاجائے گا۔اور اس سے دیت وصول کرکے مریض کے وارثوں کو دی جائے گی۔5۔اسلام کی نظر میں ہر امیرغریب کی جان برابرقیمتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت