فهرس الكتاب

الصفحة 2104 من 4341

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل

باب: قسم کے ساتھ ان شاء اللہ کہنا

2104 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَلَهُ ثُنْيَاهُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو اس کو اس شرط کا فائدہ ہو گا۔

ان شاء اللہ کہنے سے قسم ختم ہو جاتی ہے پھر اگر وہ کام نہ کیا جائے جس کا ذکر کیا گیا تھا تو قسم توڑنے کا گناہ نہیں ہوگا اور کفارہ نہیں دینا پڑے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قسم تاکیدی عزم ظاہر کرنے کے لیے ہوتی ہے اور ان شاء اللہ کا مطلب ہے اگر اللہ نے چاہا تو میں ایسا کروں گا ۔ اور مستقبل کے کاموں میں بندے کو اللہ کی مرضی معلوم نہیں ہوتی تو اس میں گویا اس عزم کی نفی ہے اور یہ احتمال آگیا کہ ممکن ہے میں یہ کام کرسکوں یا نہ کرسکوں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت