فهرس الكتاب

الصفحة 1838 من 4341

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل

باب: مال دار ہوتے ہوئے( بلا ضرورت)سوال کرنا

1838 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرَ جَهَنَّمَ، فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ أَوْ لِيُكْثِرْ»

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مال میں اضافہ کرنے کے لیے لوگوں سے ان کی دولت مانگتا ہے وہ تو جہنم کے انگاروں کا سوال کر رہا ہے۔ (اسے اختیار ہے کہ) کم طلب کرے یا زیادہ مانگ لے۔

1۔بغیر ضرورت کے سوال کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ انسان اس طرح خود کو جہنم کے نگاروں کا مستخق بنا لیتا ہے ۔

حرام کمائی سے اجتناب فرض ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت