فهرس الكتاب

الصفحة 2716 من 4341

کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل

باب: جوشخص وصیت کیےبغیرفوت ہوجائےکیااسکی طرف سےصدقہ کیاجاسکتاہے؟

2716 حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ

ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: میرا والد فوت ہوگیا ہے اور اس نے مال چھوڑا ہے، لیکن وصیت نہیں کی۔ اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ''ہاں۔ ''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت