2088 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ، وَكُنْتُ أُحِبُّهَا، وَكَانَ أَبِي يُبْغِضُهَا، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا، فَطَلَّقْتُهَا»
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے نکاح میں ایک عورت تھی، مجھے وہ پسند تھی لیکن ابا جان اسے پسند نہیں کرتے تھے۔حضرت عمر ؓ نبی ﷺ کو یہ بات بتائی تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ اسے طلاق دے دوں، چنانچہ میں نے اسے طلاق دی۔
1۔عام طور پر والدین کو اولاد کی خوشی محبوب ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ اولاد کی خوشی کے لیےناگوار باتیں بھی برداشت کر لیتے ہیں۔اس صورت میں اگر والدین اپنی بہو سے تنگ ہیں تو عموما ًکوئی معقول وجہ ہوتی ہے۔خاص طور پر والد بلا وجہ بیٹے کو یہ حکم نہیں دے سکتاکہ بیوی کو طلاق دے دے۔2:والدین کی خوشی کو اپنی خوشی پر مقدم رکھنا والدین سے حسن سلوک میں شامل ہے 3:اگر والدین اپنے بیٹے کو ناجائز طور پر یہ حکم دیتے ہیں کہ بیوی کو طلاق دےدو تو بہتر ہے ادب و احترام سے والدین کو اپنی بات سمجھانےکی کوشش کی جائے۔اگر وہ پھر بھی اپنی رائے پر اصرار کریں تو ان کے حکم کی تعمیل کی جائے۔والدین کو غلط حکم دینے کا گناہ ہو گا جب کہ بیٹے کو والدین کے حکم تعمیل کا ثواب ہو گا۔