فهرس الكتاب

الصفحة 1216 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: سلام سے پہلے سجدۂ سہو کرنے کا بیان

1216 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بَكِيرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَدْخُلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ زَادَ أَوْ نَقَصَ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمْ

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ''شیطان نماز کے دوران میں کسی کے پاس آتا ہے، پھر اس کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، (وسوسے ڈالتا ہے) حتی کہ نمازیوں کو معلوم نہیں رہتا کہ اس نے زیادہ نماز پڑھی ہے یا کم۔ جب یہ صورت پیش آئے تو ( نمازی کو چاہیے کہ) سلام سے پہلے دو سجدے کر لے، پھر سلام پھیرے دے۔''

1۔نماز سب سے اہم عبادت اور بندے کااللہ سے تعلق قائم کرنے والا عمل ہے۔اس لئے شیطان کی پوری کوشش ہوتی ہے۔کہ وہ بندے کو ا س سے فائدہ نہ اٹھانے دے۔2۔خیالات کو نماز میں مرکوز کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔پھر بھی اگر توجہ نہ رہے تو جب خیال آئے پھر نماز کی طرف توجہ کرلے۔3۔نماز کے دوران میں خیالات کسی اور طرف متوجہ ہوجانے کی وجہ سے بعض اوقات نماز کی رکعات میں شک ہوجاتا ہے۔اس صورت میں جب فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے تو سجدہ سہوکرلینا چاہیے۔4۔سجدہ سہو سے بعض مسائل گزشتہ ابواب میں زکر کیے جا چکے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت