فهرس الكتاب

الصفحة 4273 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: مرنے کے بعد زندہ ھونے(حشر )کا بیان

4273 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ صَاحِبَيْ الصُّورِ بِأَيْدِيهِمَا أَوْ فِي أَيْدِيهِمَا قَرْنَانِ يُلَاحِظَانِ النَّظَرَ مَتَى يُؤْمَرَانِ

حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے ۔ نبی ﷺ نے فر یا ۔ صور پھو نکنے والے دونو ں فرشتوں میں نر سنگے (بگل ) ہیں وہ نظر اٹھا اٹھا کر دیکھتے ہیں کہ کب انھیں (پھو نک رنے کا ) حکم دیا جا ئے گا ۔

1۔صور (نرسنگا) ایک قسم کا بگل ہوتا تھا۔جو کسی جانور کے سینگ سے بنایا جاتا تھا۔2۔مذکورہ روایت ضعیف ہے۔تاہم قرآن مجید میں صور پھونکنے کی بابت یہ ارشاد الٰہی ہے۔جس کامفہوم یہ ہے۔ اور صور میں پھونکا جائے گا۔ تو جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے۔وہ بے ہوش ہوجائے گا۔سوائے اس کے جسے اللہ چاہے۔پھر اس میں دوسری بار پھونکا جائے گا۔ تو وہ یکایک کھڑے ہوکردیکھنے لگیں گے۔ (الزمر 39۔68) 3۔صور کی حقیقت وکیفیت سے اللہ ہی باخبر ہے۔ ہمیں جتنی بات بتائی گئی ہے اس پر ایمان رکھنا چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت