فهرس الكتاب

الصفحة 3384 من 4341

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام ومسائل

باب: لوگ شراب کا کوئی اور نام رکھ لیں گے

3384 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَذْهَبُ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامُ، حَتَّى تَشْرَبَ فِيهَا، طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ، يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا»

حضرت ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت ہے 'رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا:رات دن کا نظام ختم نہیں ہو گا حتیٰ کہ میری امت کے کچھ لوگ شراب پیں گے لیکن اسے اس کے نام (شراب ) کے سوا دوسرے نام سے پکاریں گے۔''

1۔ قیامت کے نزدیک ہونے والے برے اعمال کا زکر اس لئے کیا گیا ہے۔ کہ مومن ان سے بچنے کی زیادہ کوشش کریں۔2۔حرام چیز کانام بدل دینے سے حکم تبدیل نہیں ہوجاتا۔جیسے سود کو منافع یا مارک اپ کہنے سے اس کی حقیقت نہیں بدل جاتی اسی طرح شراب کو مشروب یا شربت کہنے سے یا کوئی اور بھلا سا نام رکھ لینے سے وہ حلال نہیں ہوجاتی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت