فهرس الكتاب

الصفحة 2656 من 4341

کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل

باب: اگرایک آدمی دوسرے کو دانت سے کاٹے اوراس کے ہاتھ کھینچنے پر کاٹنے والے کے دانت اکھڑ جائیں(تو کیا حکم ہے؟)

2656 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمَّيْهِ يَعْلَى وَسَلَمَةَ ابْنَيْ أُمَيَّةَ قَالَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا فَاقْتَتَلَ هُوَ وَرَجُلٌ آخَرُ وَنَحْنُ بِالطَّرِيقِ قَالَ فَعَضَّ الرَّجُلُ يَدَ صَاحِبِهِ فَجَذَبَ صَاحِبُهُ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَمِسُ عَقْلَ ثَنِيَّتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ كَعِضَاضِ الْفَحْلِ ثُمَّ يَأْتِي يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ لَا عَقْلَ لَهَا قَالَ فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ سے روایت ہے، ان دونوں نے فرمایا: غزوہٴ تبوک میں ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ہمارے ساتھ ہمارا ایک دوست تھا۔ راستے میں اس کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی۔ آدمی نے اپنے ساتھ کے ہاتھ پر دانت سے کاٹ لیا۔ ساتھی نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا سامنے کا دانت ٹوٹ گیا۔ وہ اپنے دانت کی دیت لینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ایک آدمی اپنے بھائی کا ہاتھ اس طرح چباتا ہے جس طرح اونٹ ( کسی کا ہاتھ) چبا جاتا ہے۔ پھر دیت مانگنے آجاتا ہے۔ اس دانت کی کوئی دیت نہیں۔'' رسول اللہ ﷺ نے اس کے دانت کو ہدر ( دیت کا حق نہ رکھنے والا) قرار دے دیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت