2657 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا عَضَّ رَجُلًا عَلَى ذِرَاعِهِ فَنَزَعَ يَدَهُ فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَلَهَا وَقَالَ يَقْضَمُ أَحَدُكُمْ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کے بازو پر دانت سے کاٹ لیا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ کر گر گیا۔ یہ مقدمہ نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے اس کے دانت کو دیت کا حق نہ رکھنے والا قرار دے دیا۔ اور فرمایا: ''تم میں سے کوئی ایسے کاٹنا ہے جیسے اونٹ کاٹ کھاتا ہے۔''
1۔جس پر حملہ کیا جائے وہ اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔2۔ اس کوشش میں اگر حملہ آور کو نقصان پہنچ جائے تو اسے دوسرے سے جرمانہ نہیں دلایا جائے گا۔