فهرس الكتاب

الصفحة 3665 من 4341

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل

باب: والد کے( اولاد سے اور خاص طور پر )بیٹیوں سے حسن سلوک کا بیان

3665 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَقَالُوا لَكِنَّا وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْلِكُ أَنْ كَانَ اللَّهُ قَدْ نَزَعَ مِنْكُمْ الرَّحْمَةَ

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:کچھ اعرابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا:کیا تم لوگ اپنے بچوں کو چومتے ہو؟صحابہ ؓم نے کہا:ہاں۔ انہوں نے کہا:لیکن قسم ،ہے اللہ کی ! ہم تو (اپنے بچوں کو) نہیں چومتے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: یہ میرے اختیار کی بات تو نہیں جب اللہ نے تمہارے اندر سے رحم کا جذبہ سلب کرلیا ہے۔

اپنے بچوں سے پیار کرنا شفقت و محبت کی علامت ہے۔ ۲۔دل اللہ کے قبضے میں ہیں۔نبی ﷺ وعظ و نصیحت کرتے تھے اور حق کو واضح کر کے بیان فرماتے تھے۔ ہدایت دینا اللہ کا کام ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت