1254 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ
سیدنا جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اے بنی عبد مناف! کوئی شخص رات یا دن میں جس وقت بھی اس گھر کا طواف کرنا اور نماز پڑھنا چاہے تم اسے منع نہ کرنا۔''
1۔بیت اللہ شریف کا طواف کرنے کےلئے کوئی وقت مقرر نہیں نہ کسی وقت طواف کرنا منع ہے۔2۔طواف کعبہ کے سات چکر پورے کرکے دو رکعت نماز ادا کرنی ہوتی ہے۔ اس نماز کا تعلق چونکہ طواف سے ہے اس لئے یہ بھی ہر وقت ادا کی جاسکتی ہے۔اس کے لئے کوئی وقت مکروہ نہیں۔3۔حدیث میں صرف مسجد حرام کے اندر ہر وقت نماز کی اجازت کازکر ہے۔امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے پورے شہر مکہ میں اس کی اجازت سمجھی ہے۔ممکن ہے مکہ میں ہر وقت نماز جائز کہنے سے ان کامقصد مسجد حرام میں ہروقت نماز کا جواز ہو۔واللہ اعلم۔4۔طواف کے ساتھ نماز کے زکر سےاستدلال کیا جاسکتا ہے کہ اس سے مراد طواف کی دو رکعتیں ہر وقت ادا کرنے کی اجازت مقصد مقصود ہے۔تاہم لفظ کے عموم کو پیش نظر رکھیں۔تو عام نوافل کی ادایئگی کوبھی جائز کہا جاسکتا ہے۔