فهرس الكتاب

الصفحة 2456 من 4341

کتاب: رہن( گروی رکھی ہوئی چیز)سے متعلق احکام ومسائل

باب: خالی زمین کو سونے چاندی(رقم)کے عوض کرائے پر دینا

2456 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ لَمَّا سَمِعَ إِكْثَارَ النَّاسِ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا مَنَحَهَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ كِرَائِهَا

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جب لوگوں کو بٹائی پر زمین دینے کے بارے میں بہت باتیں کرتے سنا (کہ یہ منع ہے) تو فرمایا: سبحان اللہ! اللہ کے رسول ﷺ نے تو یہ فرمایا تھا: آدمی اپنے بھائی کو زمین کیوں نہیں دے دیتا؟ آپ نے کرائے پر دینے سے منع نہیں فرمایا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت