فهرس الكتاب

الصفحة 2129 من 4341

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل

باب: نذر پوری کرنا

2129 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: «نَذَرْتُ نَذْرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أَسْلَمْتُ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُوفِيَ بِنَذْرِي»

حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے جاہلیت میں ایک نذر مانی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے مجھے نذر پوری کرنے کا حکم دیا۔

1۔ نذر چونکہ اللہ کی عبادت ہے اور نیکی ہے اس لیے اسلام قبول کرنے سے پہلے جو نیکی کرنے کا ارادہ کیا تھا نبی اکرمﷺ نے وہ نیکی کرنے کا حکم دیا ۔

2۔ حالت کفر میں اگر ایسا کام کرنے کی نذر مانی جائے جو اسلام میں بھی نیکی ہے تو اسلام قبول کرنے کے بعد نذر پوری کرنا ضروری ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت