1343 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنْ اللَّيْلِ
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اپنا وظیفہ ( تلاوت یا اذکار کا مقررہ معمول) یا وظیفے کا کچھ حصہ نیند کی وجہ سے نہ پڑھ سکا، پھر اس نے وہ ( چھوٹا ہوا حصہ) فجر اور ظہر کے درمیان (کسی وقت) پڑھ لیا، اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھا جائے گا، گویا اس نے وہ رات کو پڑھا۔''
1۔نماز تہجد میں قرآن مجید کی کوئی خاص مقدار تلاوت کرنے کا معمول بنا لینا درست ہے۔2۔تلاوت اور زکر اذکار کےلئے کوئی وقت مکروہ نہیں۔3۔رات کے نوافل اور تلاوت کاثواب زیادہ ہے لیکن مذکورہ صورت میں دن کے وقت بھی پورا ثواب ملے گا۔گویا عذر شرعی عند اللہ معتبر ہے اور اس کی وجہ سے ہوجانے والی کوتاہی کالعدم متصور ہوگی