فهرس الكتاب

الصفحة 3773 من 4341

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل

باب: جانور پرتین آدمیوں کاسوارہونا

3773 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا مُوَرِّقٌ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِنَا قَالَ فَتُلُقِّيَ بِي وَبِالْحَسَنِ أَوْ بِالْحُسَيْنِ قَالَ فَحَمَلَ أَحَدَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَالْآخَرَ خَلْفَهُ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ

حضرت عبداللہ بن جعفر طیار ؓ سے روایت ہے ،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب سفر سے تشریف لاتے تو ہم (بچے) بھی آپ کا استقبال کرتے ، چنانچہ (ایک بار) میں اور حسن یا حسین ؓ استقبال کرنے والوں میں شامل تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ہم میں سے ایک کو (سواری پر) اپنے آگے اور دوسرے کو اپنے پیچھے سوار کرلیا حتی کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔

۱ ۔ بزرگوں کو چاہیے کہ بچوں سے شفقت کا سلوک کریں ۔۲۔ سفر سے واپس آنے والے کا استقبال کرنا درست ہے لیکن اس میں بے جا تکلفات کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے ۔۳۔ جانور پر ایک سے زیادہ افراد سوار ہو سکتے ہیں بشرطیکہ جانور آسانی سے بوجھ برداشت کر سکے ۔ لمبے سفر میں یا کمزور جانور پر دو افراد کا سوار ہونا مناسب نہیں۔۴۔ حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ اور حسن یا حسین ؓ بچے تھے۔ ان دونوں کا بوجھ مل کر بھی ایک بڑے آدمی کے برابر نہیں تھا ، اس لیے تین افراد کا سوار ہونا جانور کے لیے مشقت کا باعث نہیں تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت