فهرس الكتاب

الصفحة 1983 من 4341

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

باب: عورتوں کو مارنا

1983 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ، فَوَعَظَهُمْ فِيهِنَّ، ثُمَّ قَالَ: «إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْأَمَةِ؟ وَلَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ»

حضرت عبداللہ بن زمعہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے خطبہ دیا۔ (مختلف مسائل بیان فرمائے) پھر عورتوں کا ذکر فرمایا تو ان کے بارے میں لوگوں کو نصیحت کی، پھر فرمایا: آدمی کب تک اپنی عورت کو لونڈی کی طرح پیٹتا رہے گا؟ شاید دن کے آخر میں وہ اس کے ساتھ لیٹے۔

1۔عورتوں کو غلطی پر تنبیہ کرناضروری ہےلیکن یہ صرف زبانی ہونی چاہیے ۔ اگر کوئی عورت زیادہ ہی بے پروا اور گستاخ ہو تو اس سے ناراض ہو جائے ، یہ سزا کافی ہے ۔ جسمانی سزا صرف اس وقت جائز ہےجب اس سوا چارہ نہ رہے ۔

'' لونڈی کی طرح پیٹنے '' کا یہ مطلب نہیں کہ لونڈی کو بے تحاشا مارنا جائز ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح لوگ لونڈیوں کومارتے ہیں ، آپ کو اپنی بیویوں سے ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے ۔

مرد اور عورت ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں ۔ان کے ساتھ زندگی بھر کا ساتھ ہے ۔ اس چیز کو پیش نظر رکھتے ہو ئے عورتوں پر ناجائز سختی نہیں کرنی چا ہیے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت