فهرس الكتاب

الصفحة 2910 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: بچے کا حج

2910 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَفَعَتْ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے'انھوں نے فرمایا:حج (کے سفر) کے دوران میں ایک عورت نے اپنا بچہ بلند کر کے نبیﷺ کو دکھایا اور کہا:ہے اللہ کے رسول!کیا اس بچے کا بھی حج ہے؟آپ نے فرمایا:''ہاں'اور تجھے ثواب ہے۔''

1۔نابالغ بچے کا حج بھی ہوجاتا ہے لیکن وہ نفلی حج ہوتا ہے۔بالغ ہونے ے بعد اگر طاقت ہوتو دوبارہ حج کرنا فرض ہے۔

2۔بچے کے والدین یا سرپرست کو اس لیے ثواب ہوتا ہے کہ وہ بچے کو حج کی تربیت دیتے ہیں اور اسے ساتھ لے جانے کی مشقت برداشت کرتے ہیں نیز اس کی طرف سے رمی اور قربانی وغیرہ کے اعمال انجام دیتے ہیں اسی طرح طواف اور سعی میں بعض اوقات بچے کو اٹھا کر طواف اور سعی کراتے ہیں تاہم اس صورت میں وہ طواف اور سعی بچے کی طرف سے ہوتی ہے اٹھانے والے اپنا طواف اور سعی الگ سے کرنی چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت