فهرس الكتاب

الصفحة 1510 من 4341

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب : رسول اللہﷺ کے فرزند کی وفات اور جنازے کا بیان

1510 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى: رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَبِيٌّ، لَعَاشَ ابْنُهُ، وَلَكِنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ»

اسماعیل بن ابو خالد ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم ؓ کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ تو بچپن ہی میں فوت ہوگئے تھے۔ اگرتقدیر یہ ہوتی کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی اور نبی ہو تو آپ کے (یہ) فرزند زندہ رہتے، لیکن نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

1۔اس میں اشارہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو کو نبوت سے نہیں نوازا گیا۔نہ آئندہ کسی کو نبوت ملے گی۔اگر اُمت محمدیہ میں سے کسی کے لئے نبوت ہوتی تو ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےلئے ہوتی۔جب ان کو نہیں ملی تو کسی اور کوکیسے مل سکتی ہے۔2۔ایک روایت میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےلئے یہ بھی الفاظ وار ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوتا۔ (مسند احمد 4/154) اس کابھی یہی مطلب ہے کہ جب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی شخصیت کو نبوت نہیں ملی۔جن میں اتنی خوبیاں تھیں کہ اگر انھیں نبوت ملتی تو اس کی زمہ داریوں کا بوجھ اُٹھا سکتے تھے۔ پھر کسی اور کو نبوت کیس مل سکتی ہے۔؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت