465 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهُ لَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى غُسْلِهِ فَسَتَرَتْ عَلَيْهِ فَاطِمَةُ ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ
سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:'' جس سال مکہ فتح ہوا رسول اللہ ﷺ نہانے کے پانی کی طرف گئے، سیدہ فاطمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے لئے پردہ تان دیا ( تو آپ ﷺ نے غسل فرمایا) ، اس کے بعد آپ نے اپنا کپڑا لے کر جسم پر لپیٹ لیا۔
1)پانی کی طرف جانے کا مفہوم یہ ہے کہ گھر میں ایک طرف برتن میں نہانے کے لیے پانی رکھا گیا اور آپﷺ نہانے کے لیےتشریف لے گئے۔
2۔نہاتے وقت جسم پر چھوٹا کپڑا موجود ہو تب بھی مزید پردہ کرنا یا غسل خانے میں کپڑا پہن کر نہانا افضل ہے تاہم اگر پردے میں نہاتے وقت جسم پر کوئی کپڑا نہ ہوتب بھی جائز ہے۔
3۔نہانے کے بعد جب کپڑا جسم سے لپیٹا جائے تو وہ جسم پر موجود قطرات کو جذب کرلیتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ کپڑے یا تولیے سے جسم خشک کرنا جائز ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں