فهرس الكتاب

الصفحة 3578 من 4341

کتاب: لباس سے متعلق احکام ومسائل

باب: بٹن کھلے رکھنا

3578 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ دُكَيْنٍ عَنْ زُهَيْرٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ وَإِنَّ زِرَّ قَمِيصِهِ لَمُطْلَقٌ قَالَ عُرْوَةُ فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلَا ابْنَهُ فِي شِتَاءٍ وَلَا صَيْفٍ إِلَّا مُطْلَقَةً أَزْرَارُهُمَا

حضرت قرہ بن ایاس مزنی ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی بیعت کی ۔ اس وقت آپ کا بٹن کھلا ہوا تھا ۔

حضرت قرہ بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں: میں نے (حضرت قرہ ؓ کے بیٹے ) معاویہ بن قرہ ؓ اور انکے بیٹے کو سردیوں اور گرمیوں میں جب بھی دیکھا ان کے بٹن کھلے ہوئے دیکھے ۔

۱ ۔ قمیض کے گریبان میں بٹن لگانا درست ہے۔

۲ ۔ رسول اللہ ﷺنے شاید کسی ضرورت (گرمی وغیرہ کی وجہ ) سے گریبان کا بٹن کھولا ہوگا لیکن بزرگوں نے اتباع کے خیال سے ہمیشہ بٹن کھلے رکھے ۔ بٹن کھلے رکھنا اگر بطور تواضع اور اتباع نبی ﷺ ہو تو مستحب اور باعث اجر ہے مگر ہمارے ہاں بعض علاقوں میں لوگ بطور تکبر اپنا گریبان کھلا رکھتے ہیں۔ لہذا ان کی مشابہت سے بچنا ضرورى ہے -

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت