فهرس الكتاب

الصفحة 2830 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب: غیر مسلموں کے برتن میں کھا نا کھانا

2830 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى فَقَالَ لَا يَخْتَلِجَنَّ فِي صَدْرِكَ طَعَامٌ ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً

حضرت ہلب طائی ؓ سےروایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ سے عیسائیوں کا کھانا کھانے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ' تیرے دل میں کوئی کھانا کھٹکا پیدا نہ کرے جس سے نصرانیت سے تیری مشابہت ہوجائے۔

1۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں شرعی حکم یہی ہے کہ جانور اللہ کا نام لےکر ذبح کیا جائے لیکن آج کل عیسائی اس پر عمل نہیں کرتے۔اگر کوئی یہودی یا عیسائی اللہ کا نام لے کر ذبح کرے تو وہ ذبیحہ حلال ہے۔

2۔جس کھانے میں گوشت یا گوشت سے حاصل ہونے والی کوئی چیز (چربی یا جیلاٹین وغیرہ) استعمال نہ ہوئی ہو وہ غیر مسلم کے ہاتھ سے تیار ہوا ہو تب بھی جائز ہے۔اسی طرح مسلمان کے ذبح شدہ جانور کا گوشت اگر غیر مسلم پکائے تو مسلمان کے لیے اس کا کھانا جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت