1793 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ»
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے نبی ﷺ سے یہ فرمان سنا: پانچ وسق کھجوروں سے کم میں زکاۃ نہیں، پانچ اوقیہ (چاندی) سے کم میں زکاۃ نہیں اور پانچ سے کم اونٹوں میں بھی نہیں۔
(1) کھجوریں جب خشک کر کے ذخیرہ کرنے کے قابل ہو جائیں ، اس وقت اگر ان کا وزن پانچ وسق کے برابر ہو تو ان پر زکاۃ واجب ہوگی ۔ ایک وسق ساتھ صاع کے برابر ہوتا ہے اور صاع ایک پیمانہ ہے جس کا وزن تقریبًا ڈھائی کلو بنتا ہے ۔ اس حساب سے پانچ وسق کا وزن تقریبًا بیس (20) من بنتا ہے جس میں سے ایک من زکاۃ ادا کی جائے گی ۔ (2) پانچ اوقیہ دو سو درہم کے برابر ہے یعنی چاندی کا نصاب دو سو درہم تقریبًا ساڑھے باون تولے ہے ۔ (3) اگر کسی کے پاس پانچ سے کم اونٹ ہوں تو ان میں زکاۃ فرض نہیں ۔ پانچ اونٹ ہوں تو ایک بکری زکاۃ کے طور پر ادا کی جائے گی ۔ اونٹوں کی زکاۃ کی مزید تفصیل باب 9 میں آئے گی۔