فهرس الكتاب

الصفحة 3862 من 4341

کتاب: دعا سے متعلق احکام ومسائل

باب: باپ کی اور مظلوم کی دعا

3862 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ، لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہےرسول اللہ نے فرمایا:تین دعائیں قبول ہوتیں ہین۔ان (کی قبولیت) میں کوئی شک نہیں:مظلوم کی دعا مسافر کی دعااور والد کی اپنی اولاد کے حق میں دعا۔

1۔مظلوم تنگ آکر ظالم کو جو بد دعا دیتا ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔اس لئے کسی انسان یا حیوان پر ظلم کرنے سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔2۔بعض اوقات کسی حکمت کی بنا پر مظلوم کی دعا کی قبولیت میں دیر ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں صبر کر نا چاہیے صبر سے درجات بلند ہوتے ہیں۔ نیز مصیبت اور تکلیف کے وقت صبرکرنے سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔3۔والد اور والدہ دونوں کی دعایئں قبول ہوتی ہیں۔اس لئے انھیں خوش رکھنا چاہیے۔ اور خدمت کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ان سے نا مناسب سلوک کرنا بد زبانی کرنا جب انھیں خدمت کی ضرورت ہو تو خدمت نہ کرنا ان کی ضروریات کا خیال نہ رکھنا ان کی دل شکنی کا باعث ہوتا ہے۔جس کے نتیجے میں ان کے منہ سے بد دعا نکل سکتی ہے جو یقینًا قبول ہوتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت