فهرس الكتاب

الصفحة 2936 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: حج میں شرط لگانا

2936 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ جَدَّتِهِ قَالَ لَا أَدْرِي أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَوْ سُعْدَى بِنْتِ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ مَا يَمْنَعُكِ يَا عَمَّتَاهُ مِنْ الْحَجِّ فَقَالَتْ أَنَا امْرَأَةٌ سَقِيمَةٌ وَأَنَا أَخَافُ الْحَبْسَ قَالَ فَأَحْرِمِي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلَّكِ حَيْثُ حُبِسْتِ

حضرت ابو بکر ؓ بن عبداللہ بن زبیر ؓ اپنی دادی حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓا یا اپنی نانی حضرت سعدی بنت عوف ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺحضرت ضباعہ بنت عبد المطلب ﷜کے ہاں تشریف لے گئے اورفرمایا:پھوپھی جان !آپ کو حج کرنے میں کیا رکاوٹدرپیش ہے؟انھوں نے کہا:میں بیمار عورت ہوں اور راستے میں رک جانے (اور سفر جاری نہ رکھ سکنے ) سے ڈرتی ہوں۔آپ نے فر یا "احرام کھول لیجئے اور شرط لگا لیجئے کہ آپ وہیں احرام کھول دیں گی جہاں آپ کو رکاوٹ پیش آجا ئے گی۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت