فهرس الكتاب

الصفحة 3476 من 4341

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل

باب: سینگی لگوانے کا بیان

3476 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:: إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ، فَالْحِجَامَةُ

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے،نبی ﷺ نے فرمایا:''جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو ، اگر ان میں سے کسی میں بھلائی (اور فائدہ ہے ) تو وہ (سینگی لگوانے میں) ہے ۔

1۔سینگی ایک پیالے جیسی چیز سے لگائی جاتی ہے۔اسے ہوا سے خالی کرکے جلد پر رکھا جاتا ہے۔اس سے جسم کے ایک حصے میں دبائو پیدا ہوتاہے۔جس کی وجہ سے خون اور فاسد مادہ زور سے کھینچ آتا ہے۔2۔سینگی تقریبا ہرمرض کا علاج ہے۔لیکن معالج سمجھ دار ہوناچاہیے۔جو یہ جانتا ہو کہ کس مرض کےلئے جسم کے کس حصے پرسینگی لگانی چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت