3009 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِعَرَفَةَ فِي وَادِي نَمِرَةَ قَالَ فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ أَيَّ سَاعَةٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ قَالَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ رُحْنَا فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلًا يَنْظُرُ أَيَّ سَاعَةٍ يَرْتَحِلُ فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرْتَحِلَ قَالَ أَزَاغَتْ الشَّمْسُ قَالُوا لَمْ تَزِغْ بَعْدُ فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَزَاغَتْ الشَّمْسُ قَالُوا لَمْ تَزِغْ بَعْدُ فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَزَاغَتْ الشَّمْسُ قَالُوا لَمْ تَزِغْ بَعْدُ فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَزَاغَتْ الشَّمْسُ قَالُوا نَعَمْ فَلَمَّا قَالُوا قَدْ زَاغَتْ ارْتَحَلَ قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي رَاحَ
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عرفات میں نمرہ میں ٹھہرتے تھے۔
حضرت سعید بن حسان بیان کرتے ہیں:جب حجاج نے حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کو شہید کر دیا تو (اس کے بعد حج کے دوران میں) اس نے آدمی بھیج کر حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے دریافت کیا:نبیﷺاس دن کس وقت (عرفات کے میدان میں) جاتے تھے؟ ابن عمر ؓ نے فرمایا:جب وہ وقت آئے گا ہم روانہ ہو جائیں گے (اور تمہیں معلوم ہو جائے گا۔) حجاج نے ایک آدمی بھیجا کہ دیکھے وہ کس وقت روانہ ہوتے ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے جب (نمرہ سے) روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو فرمایا:کیا سورج ڈھل گیا ہے؟لوگوں نے کہا:ابھی نہیں ڈھلا۔آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟لوگوں نے کہا:ابھی نہیں ڈھلا۔ آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟لوگوں نے کہا:ابھی نہیں ڈھلا۔ آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟لوگوں نے کہا:جی ہاں۔جب انھوں نے کہا:چڈھل گیا ہے'تب حضرت ابن عمر ؓ روانہ ہوئے۔
1۔ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سندًا ضعیف قراردیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس کی اصل صحیح مسلم 1218) میں ہے۔نیز سنن ابو داؤد (اردو حديث:1914 ۔طبع دارالسلام) کی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ صحیح مسلم کی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نے اسے حسن قراردیا ہے۔نیز مسند احمد کے محققین اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت تو سندًا ضعیف ہے۔لیکن دیگر صحیح روایات سے حدیث میں مذکور مسئلےکی تائید ہوتی ہے۔کہ سورج ڈھلنے کے بعد عرفات کی حدود میں داخل ہونا چاہیے۔لہذا مذکورہ روایت سندًا جعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بناء پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔مزیس تفصیل کے لیے دیکھیے۔: (الموسوعة الحديثية مسند الامام احمد 8/399 4--) وصحيح ابي داؤد ( مفصل ) حديث:1676)
2۔نو ذی الحجہ کو سورج ڈھلنے سے پہلے وادی نمرہ میں ٹھرنا چاہیے۔یہ جگہ حرم کی ھدود میں ہےاور عرفات سے مشرق میں ہے۔
3۔سورج ڈھلنے کے بعد عرفات کی حدود میں داخل ہونا چاہیے۔میدان عرفات حرم کی حدود سے باہر ہے۔
4۔خلیفہ عبدالملک کو حجاج بن یوسف نے تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا کہ حج کے مسائل میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے فتوی کے مطابق عمل کیا جائے اس لیے اس نے ان سے پوچھ پوچھ کر عمل کیا۔ (صحيح البخاري الحج باب التهجير بالرواح يوم عرفة حديث:166-)
5۔حکام کو چاہیے کہ علماء سے رہنمائی حاصل کریں اور لوگوں سے شریعت کے مطابق عمل کرائیں۔