فهرس الكتاب

الصفحة 2435 من 4341

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل

باب: تین کاموں کے لیے قرضہ لینے والے کا قرضہ اللہ تعالیٰ ادا فرمائے گا

2435 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ وَأَبُو أُسَامَةَ وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ ابْنِ أَنْعُمٍ قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ أَنْعُمٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدَّيْنَ يُقْضَى مِنْ صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا مَاتَ إِلَّا مَنْ يَدِينُ فِي ثَلَاثِ خِلَالٍ الرَّجُلُ تَضْعُفُ قُوَّتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَسْتَدِينُ يَتَقَوَّى بِهِ لِعَدُوِّ اللَّهِ وَعَدُوِّهِ وَرَجُلٌ يَمُوتُ عِنْدَهُ مُسْلِمٌ لَا يَجِدُ مَا يُكَفِّنُهُ وَيُوَارِيهِ إِلَّا بِدَيْنٍ وَرَجُلٌ خَافَ اللَّهَ عَلَى نَفْسِهِ الْعُزْبَةَ فَيَنْكِحُ خَشْيَةً عَلَى دِينِهِ فَإِنَّ اللَّهَ يَقْضِي عَنْ هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مقروض سے قرض وصول کیا جائے گا، جب وہ (مقروض ہو کر) فوت ہو جائے گا مگر جو شخص تین کاموں کے لیے قرض لیتا ہے (وہ اس سے مستثنیٰ ہے۔) شوہ شخص جس کی اللہ کے راستے میں (جہاد کرنے کی) قوت کم ہو جاتی ہے تو وہ اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کا مقابلہ کرنے کی طاقت حاصل کرنے کے لیے قرض لیتا ہے۔ (دوسرا) وہ شخص جس کے پاس کوئی مسلمان فوت ہوتا ہے اور اس کے پاس قرض لیے بغیر اس کے کفن دفن کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اور (تیسرا) وہ شخص جسے اپنے بے نکاح رہنے کی صورت میں (گناہ میں ملوث ہونے کا خطرہ محسوس کر کے) اللہ سے خوف آتا ہے، وہ اپنے دین (میں خرابی) کے ڈر سے (قرض لے کر) نکاح کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان (تین قسم کے افراد) کا قرض ادا کر دے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت