فهرس الكتاب

الصفحة 146 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: حضرت عمار بن یاسر کے فضائل

146 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَاسْتَأْذَنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنُوا لَهُ، مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ»

حضرت علی ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت عمار بن یاسر ؓ نے آنے کی اجازت چاہی۔ نبی ﷺ نے فرمایا:'' اسے اجازت دے دو۔ اس پاک کیے ہوئے پاک باز کو خوش آمدید۔''

(1) حضرت عمار، ان کے والد یا سر اور والدہ سمیہ رضی اللہ عنھم ان عظیم صحابہ کرام میں شامل ہیں جنہوں نے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا اور کفار کے ہاتھوں بہت سی تکلیفیں برداشت کیں، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں ان کا مقام بہت بلند تھا۔ (2) پاک کیے ہوئے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اخلاص نصیب فرمایا ہے اور ایسی عادات و خصائل سے پاک فرما دیا ہے جو ایک کامل ایمان والے مومن کی شان کے لائق نہیں۔ (3) دوستوں کو مرحبا اور خوش آمدید کہنا بھی اخلاق حسنہ میں شامل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت