فهرس الكتاب

الصفحة 2805 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب: ہتھیا روں کا بیان

2805 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ کےسرپر خود تھا۔

1۔جنگ میں ہتھیاروں کا استعمال یا دشمن کے ہتھیاروں سے بچاؤ کی اشیاء کا استعمال تواکل کے منافی نہیں۔

2۔مکہ مکرمہ حرم ہے جہاں جنگ اور قتال منع ہے۔رسول اللہﷺ کو اللہ تعالی نے فتح مکہ کے دن جہاد کے لیے خاص طور پر اجازت دی تھی۔جب مکہ فتح ہوگیا تو پابندی دوبارہ نافذ ہوگئی۔

3۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانے میں رائج ہتھیار اور دفاعی اشیاء مثلًا:خود اور زرہ استعمال کیں۔ہمیں جدید اشیاء استعمال کرنی چاہییں بلکہ خود ایجاد یا تیار کرنی چاہییں اس لیے جدید ترین ٹینک آبدوزیں بکتر بند گاڑیاں اور جنگی لباس مثلًا:ہیلمٹ اندھیرے میں دیکھنے کے لیے چشمہ وغیرہ کا حصول تیاری اور استعمال شریعت کا تقاضا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت