فهرس الكتاب

الصفحة 2085 من 4341

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

باب: کیا عورت خاوند کے علاوہ کسی اور کا سوگ بھی کرسکتی ہے؟

2085 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ»

حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: عورت کے لیے جائز نہیں کہ خاوند کے سوا کسی فوت ہونے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔

1۔خاوند کے علاوہ دوسرے قریبی رشتے داروں کی وفات پر بھی افسوس کے اظہار کے لیے زیب و زینت نہ کرنا درست ہے۔2:اظہار افسوس کے لیے تین دن تک زینت ترک کرنی چاہیے۔3:خاوند کی وفات پوری عدت دوران زیب و زینت سے پرہیز کیا جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت