فهرس الكتاب

الصفحة 3288 من 4341

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

باب: کھانے کی چیز میں پھونک مارنا

3288 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْفُخُ فِي طَعَامٍ، وَلَا شَرَابٍ، وَلَا يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ»

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ کھانے پیبے کی چیز میں پھونک نہیں مارتے تھے اور برتن میں سانس نہیں لیتے تھے۔

1۔ یہ حدیث صحیح ہے کہ ،رسول اللہ ﷺ نے برتن میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔، (دیکھیے ابن ماجہ حدیث:3429)

2۔ حضرت ابو سعید سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پینے کی چیز میں پھونک مارنے سےمنع فرمایا ۔ ایک شخص نے کہا: اگر برتن میں کوئی ناپسندیدہ چیز (تنکا وغیرہ ) نظر آجائے تو ؟ آپ نے فرمایا: اسے انڈیل دو۔ ( تھوڑا سا پانی انڈیل دو تاکہ وہ بھی نکل جائے ) اس نے کہا: میں ایک سانس سے (پیتا ہوں تو ) سیر نہیں ہوتا ۔ فرمایا: پیالے کومنہ سے ہٹا لیاکرو۔ (جامع الترمذي .الاشرية . باب ماجاء في كراهية النفخ في الشراب .حديث:1887) اس سے معلوم ہوا کہ برتن کو منہ سے ہٹا کر سانس لینا چاہیے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت