2607 حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ جَمِيعًا عَنْ أَشْعَثَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ مَرَّ بِي خَالِي سَمَّاهُ هُشَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو وَقَدْ عَقَدَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَاءً فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ تُرِيدُ فَقَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ
حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے ماموں (حضرت حارث بن عمرو رضی اللہ رنہ) میرے پاس سے گزرے، انہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک جھنڈا دے کر (کسی مہم پر) روانہ فرمایا تھا۔ میں نے کہا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کی طرف (اسے سزا دینے کے لیے) روانہ فرمایا ہے، اس نے باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی (اپنی سوتیلی والدہ) سے نکاح کر لیا ہے۔ نبی ﷺ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن اڑا دوں۔
(1) کسی محرم خاتون سے نکاح کرنا بڑا جرم ہے۔
(2) اس جرم کی سزایہ ہےمجرم کوقتل کردیا جائے۔
(3) حرم نکاح کی سزازنا والی (رجم) نہیں۔