فهرس الكتاب

الصفحة 2762 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب: جہاد نہ کرنے پر سخت وعید

2762 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے نبیﷺ نے فرمایا: جس شخص نے نہ جہاد کیا، نہ کسی مجاہد کو سامان مہیا کیا اور نہ کسی مجاہد کی غیر حاضری میں اس کے گھروالوں کی اچھی طرح خبر گیری کی تو اللہ تعالی اسے قیامت سے پہلے ہی کسی آفت میں مبتلا کردے گا۔

1۔ذاتی طور پر جنگ میں حصہ لینے کے علاوہ مجاہد کی مالی امداد یا مجاہد کے اہل خانہ کی خدمت اور خبر گیری بھی جہاد میں شرکت کے برابرہے۔

2۔اگر کوئی شخص جنگ میں شریک نہیں ہوسکتاتو اسے دوسرے دو کاموں میں ضرور شریک ہونا چاہیے ورنہ وہ ترک جہاد کا مجرم سمجھا جائے گا۔

3۔بعض گناہوں کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت